اے وہ سب جنہیں (ہماری ذات پر) ایمان یافتہ کیا گیا، جب آپ لوگوں کے پاس (اپنی مرضی سے) مومن خواتین ہجرت کر کے آئیں تو آپ لوگ ان کا امتحان لیں (اور مکمل جانچ پڑتال کر لیں)۔ (ہماری ذات) اَللہ کو ان (خواتین) کے ایمان یافتہ ہونے کا خوب علم ہے۔ پھر اگر آپ لوگوں کو ان (خواتین) کا علم ہو جائے کہ وہ (ہماری ذات پر) ایمان یافتہ ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ پلٹائیں۔ نہ وہ (خواتین) ان (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ ہی وہ (کافر) ان خواتین کے لئے حلال رہے ہیں۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان خواتین پر مہر یا خرچ کی صورت میں) خرچہ کیا تھا وہ انہیں لوٹا دیں۔ اور آپ لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ آپ لوگ ان خواتین سے (عقدِ) نکاح کر لیں جبکہ آپ لوگ انہیں ان کے مہر ادا کر چُکے ہوں۔ اور کافر عورتوں کی عصمتوں (رشتوں) کو اپنے پاس روکے مت رکھیں، اور (اگر چاہیں تو) جو کچھ آپ لوگوں نے خرچ کیا تھا وہ (کافر خواتین کو واپس بھیجتے وقت) مانگ لو، اور کافروں کو بھی حق ہے کہ وہ (مومن خواتین کے عوض اپنا خرچ) مانگ لیں جو انہوں نے خرچہ کیا تھا۔ یہ آپ لوگوں کو (ہماری ذات) اَللہ کا حُکم ہے جوکہ ہماری ذات نے ایک فیصلے کی صورت میں آپ لوگوں کے مابین فرمایا ہے۔ اور اَللہ مکمل علم پُختہ دانائی والی ذات ہے