اور ہم نے اس انسان کو اس کے والدین کے ساتھ (ان کا) احسان یافتہ رہنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ سنبہالا اور اسے تکلیف ہی کے ساتھ جَنا اور اس کا حمل اور اس کو دودھ چُھڑانا تیس مہینے ہوتا ہے، حتاکہ جب وہ بالغ ہو جاتا ہے اور جوان ہو کر چالیس سال کو پہنچ جاتا ہے تو عرض کرتا ہے میری پرورش فرمانے والی ذات میں (آپ کی بارگاہِ اقدس سے) چاہتا ہوں کہ آپ کی ذات کے اس احسان کا شکر ادا کروں جو نعمت بھی آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی ہے اور کہ آپ کی رضا کی خاطر (آپ کے) قبول شدہ اعمال کرتا رہوں اور میری نسل میں میرے لئے درستگی (بھلائی) فرمائیں، بیشک میں آپ کی ذات کی طرف توبہ کر چُکا ہوں اور بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں(تحقیق و تدبُر)